بھٹکل:12/ دسمبر(ایس اؤنیوز)گذشتہ ایک ہفتہ سے اترکنڑا ضلع کے ہوناور میں معمولی واقعہ کو لے کر پورے ضلع کے عوام جن مشکلات اور پریشانیوں سے گزرے ہیں وہ بیان سے باہر ہے، معصوم پریش میستا کی موت کا معاملہ ایک طرف تو دوسر ی طرف اسی بہانے برپا کئے فرقہ وارانہ فسادات سے ضلعی عوام مشکل حالات سے دوچار ہیں ۔ معصوم پریش میستا کی موت کے انصاف کے لئے قانونی جدوجہد کا سہارا لینا چاہئے نہ کہ سماج کی صحت کو خراب کرنا چاہئے، یہ بات بھٹکل سدبھاؤنا ویدیکے نے اپنی پریس ریلیز میں کہی ہے۔ ضلعی عوام سے امن و اما ن کو برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اترکنڑا ضلع ہمیشہ اپنی بھائی چارگی اور یک جہتی کے لئے مشہور رہاہے۔ ان حالات میں جو کچھ واقعات پیش آرہے ہیں وہ ضلع کے لئے ایک بدنما داغ ہیں۔
ریلیز میں کہا گیا ہے کہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز اور امن میں خلل ڈالنے والے پیغامات پوسٹ نہ کریں اور ضلع میں امن کو بحال رکھنے میں تمام دھرموں کے لوگ خاص کر نوجوان خصوصی تعائون کریں۔ ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہوناور کے پریش میستا کے خاندان کے دکھ میں ضلع کے تمام لوگ شریک ہیں۔
پریس ریلیز پرشرالی کے سماجی کارکن ڈاکٹر آر وی صراف، اگینانیشوری کالج آف ایجوکیشن بھٹکل کے پرنسپال ڈاکٹر آر نرسمہا مورتی ، جماعت اسلامی ہند ناظم اترکنڑا ضلع محمد طلحہ سدی باپا، کنڑا ساہتیہ پریشد بھٹکل کے صدر گنگادھر نائک، انجمن ڈگری کالج کے کنڑا پروفیسر آر ایس نایک، ریاست کے کنڑا ادیب ڈاکٹر سید ضمیر اللہ شریف، جماعت اسلامی ہند بھٹکل کے امیر مقامی مجاہد مصطفیٰ ، صحافی محمد رضا مانوی ، ایس ایس ایف کے لیڈر کے ایم شریف کے نام درج ہیں۔